انکولہ:08؍فروری (ایس او نیوز) ضلع میں بندر بخار بیماری کو لے کر عوام کافی خوف زدہ ہیں اسی دوران ایک ہفتہ میں انکولہ تعلقہ میں 6 بندروں کی موت سے عوام میں خوف گھر کرتا جارہا ہے ، جمعرات کو تعلقہ کے آورسا گرام پنچایت حدود میں بیک وقت 4بندروں کی موت سے مقامی عوام کافی خوف وہراس میں مبتلا ہوئے ہیں۔ بقیہ دو بندر چند دن پہلے ہلاک ہوئے تھے۔
جمعرات کی صبح آورسا گرام پنچایت حدود کے دنڈے بھاگ میں 3بندر مردہ پائے گئے ۔ اطلاع پاتے ہی فاریسٹ، تحصیل ، مویشی پالن ، صحت عامہ محکمہ جات کے افسران و عملہ اورمقامی گرام پنچایت کے ذمہ دار جائے وقوع پہنچ کر عوام کو آگے نہ بڑھنے کی جانکاری دی۔
محکمہ مویشی پالن کے معاون ڈائرکٹر ڈاکٹر کرشنا مورتی ہیگڈے نے تینوں بندروں کا پوسٹ مارٹم کیا۔ اس کے بعد بندروں کی نعشیں نذر آتش کردی گئیں۔ شام ہوتے ہوتے لکشمی نارائن واڑہ میں اور ایک بندر کے موت ہونےکی خبر ملی۔ سبھی وہاں پہنچ کر پیشگی اقدامات کرتے ہوئے عوام کو راحت دینے کی کوشش کی۔ اس موقع پر تحصیلدار وویک شنئی ، تحصیل انسپکٹر امر نائک، ولیج اکاؤنٹنٹ نیتراوتی ، روی نائک سمیت فاریسٹ افسران موجود تھے۔
بندروں کی موت کے سلسلےمیں مویشی پالن محکمہ کے معاون ڈائرکٹر ڈاکٹر کرشنا مورتی ہیگڈے نے جانکاری دی کہ مردہ پائے گئے بندروں کی میڈیکل جانچ کی گئی ہے، خون جانچ کے لئے بھیجا جاچکا ہے، رپورٹ موصول ہونے کے مصدقہ جانکاری دیتے ہوئے کہاکہ عوام خوامخواہ خوف میں مبتلا نہ ہوں۔ تحصیلدار وویک شنئی نے کہاکہ ایک ہی علاقے میں بیک وقت 4بندروں کی موت سے عوام کا خوف زدہ ہونا فطری ہے، میڈیکل جانچ کےبعد بیماری کاپتہ چلے گا۔ تعلقہ میں جہاں کہیں بندروں کی موت ہوتو فوری اطلاع دینےکی اپیل کی۔ فاریسٹ آفیسر کے ڈی نائک نے بتایا کہ انکولہ میں رہنے والے سیاہ بندر ، کالے بندروں سے بندر بخاربیماری نہیں پھیلتی ۔ بندروں میں بھی کئی نسلیں ہیں، یہاں جو بندر ہیں ، وہ متعدی بیماری کی نسل سےتعلق نہیں رکھنے کی بات کہی۔